10

ملک میں تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا حتمی فیصلہ آج ہوگا

مختصر نصاب اور 2021ء میں امتحانات پر گفتگو کے علاوہ بی ای سی ایس/ این سی ایچ ڈی ٹرانزیشن پلان بھی زیر بحث آئے گا

اسلام آباد: ملک بھر میں 15 ستمبر سے  تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس جاری ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں وزارت صحت کے حکام بریفنگ دیں گے اور ان کی سفارشارت کی روشنی میں تجاویز قومی رابطہ کمیٹی کو بھجوائی جائیں گی جو حتمی فیصلے کا اعلان کرے گی۔

اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا اور وفاقی نظامت تعلیمات میں اینٹی ہراسمنٹ باڈیز کے صوبوں میں قیام پر گفتگو ہوگی۔ اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے کے ساتھ ساتھ  ان سے متعلق ایس او پیز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ وفاقی نظامت تعلیمات میں اینٹی ہراسمنٹ باڈیز کے صوبوں میں قیام پر بھی غور کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت اجلاس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم شریک ہیں۔ اس کے علاوہ چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

ملک میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی سفارشات اور بین الصوبائی وزرائے تعلیم کونسل کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔

تعلیمی ادارے کھولنے کی منظوری کے لیے حتمی اجلاس آج ہورہا جس کے بعد کورونا وبا کی روک تھام کے لیے رواں سال مارچ  سے ملک بھر میں بند 3 لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں کے کھولنے کا فیصلہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں