12

پاکستانی نژاد انگلش کرکٹر بھی نسل پرستی کا شکار

کراچی: انگلینڈ انڈر 19 اور یارکشائر کے کپتان عظیم رفیق نے دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے دوران انہیں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ خودکشی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ 

عظیم کے خاندان کا تعلق کراچی سے ہے وہ ڈس ایبل کرکٹ کے روح رواں سلیم کریم کے بھانجے ہیں۔

عظیم کے مطابق انہیں انگلینڈ میں کھیل کے دوران ہمیشہ ‘غیر’ سمجھا گیا مینجمنٹ کی جانب سے نسل پرستانہ رویہ کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ان کا انسانیت سے اعتبار اٹھ چکا تھا۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق عظیم رفیق کا کہنا ہے کہ مجھے کلب میں نسل پرستی اور بدترین ماحول کا سامنا کرنا پڑا، دوسروں کو تکلیف سے بچانے کے لیے اس حساس معاملے پر بولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

عظیم کے مطابق میں جانتا ہوں کہ یارکشائر کلب میں رہتے ہوئے میں خودکشی کے کتنا قریب پہنچ چکا تھا، اندر سے مر رہا تھا لیکن کام پر جانا میرے لیےخوفناک لمحہ تھا۔میری کوئی بات سننے کوآمادہ نہیں ہوتا تھا۔

عظیم کا کہنا ہے کہ “مجھے معلوم ہے کہ وہ اس بارے میں گفتگو کرکے شاید اس کھیل میں اپنے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہوں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کرنا درست عمل ہے اور مجھے یہ تنہا بھی کرنا پڑا تو میں کروں گا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں