15

آپ کل سر اٹھا کر جیو گے بابا

آپ کل سر اٹھا کر جیو گے بابا،یہ الفاظ ہمارے بوسیدہ نظام کے منہ پر طمانچہ ہیں،یہ الفاظ بہاولپور کی مظلوم طاہرہ کے ہیں جس سے وطنِ عزیز کے نظام قانون نے جینے کا حق چھین لیا ۔ سات دن پہلے بہاولپور کی تحصیل خیر پور ٹامیوالی میں طاہرہ نامی لڑکی کھیتوں میں کام کررہی تھی ، کہ لقمان نامی درندے نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔غریب والدین اسے پہلے طبی امداد کے لیے ہسپتال لے کر گئے اور پھر طاہرہ اپنے والد کو لے کر اپنی فریاد سنانے تھانے پہنچی ۔جہاں پولیس چوکی انچارچ نے کہا آپ اپنی رپورٹ لکھوا دیں تین دن بعد بڑے صاحب آئیں گے تو وہ دونوں گروپوں کو بلا کر بات سنیں گے۔ طاہرہ کا والد اگلے دن صبح ہوتے ہی بیٹی کے ساتھ دوبارہ تھانے پہنچا۔

تھانے میں قدم رکھتے ہی مظلوم طاہرہ پر عوام کے محافظوںکی جانب سےطرح طرح کے غلیظ قسم کے سوالات پوچھےجانے لگے ۔طاہرہ کے والد کا سر شرم جھکا ہوا تھا اور طاہرہ سپاہی سے لے کر ایس ایچ او کی جانب سے پوچھے جانے والے غلیظ سوالات کے جواب دے رہی تھی ۔شام ہوئی طاہرہ اور اس کا والد مایوس ہوکر گھر لوٹے ۔اور پھر گھر آتے ہی طاہرہ ایک کچے کمرے میں گئی ، سپرٹ کی بوتل اٹھائی اور منہ پر لگا لی ۔باپ بیٹی کو بچانے دوڑا ،، لیکن زہر پیتی طاہرہ نے یہ کہتے ہوئے دم توڑ دیا ، بابا اب آپ سر اٹھا کر جیو گے۔

اگلے دن یہ دل دہلا دینے والا واقعہ میڈیا پر آیا تو ایوانوں میں بیٹھے شہنشاہوں نے نوٹس لیا ۔ڈی پی او صاحب نے کیس ہائی پروفائل بننے کے بعدایس ایچ او ، تفتیشی افسر اور محرر کو معطل کرکے پرچہ درج کیا اور پھر اسی تھانے کی حوالات میں بند کردیا ،ملزم لقمان بھی پکڑلیا گیا ،، جب ان سب کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ، عدالت نے ملزم لقمان کا تین روز کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا ، جبکہ پولیس اہلکاروں کو جوڈیشل کرکے جیل بھجوادیا۔ ۔۔ لیکن سوال یہ ہے کیا ہمارے ادارے اور ہمارا تھانہ ہر کیس کو ہائی پروفائل بننے کے بعد ہی سیریس کیوں لیتا ہے ؟کیاایس ایچ اور ، تفتیشی اور محرر تھانے میں بند کرنے سے پولیس کلچر بدل جائے گا؟ خیرپور ٹامیوالی کی طاہرہ مرچکی ، وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی ، جیسے قصور کی زینب بے قصور ماری گئی ؟ لیکن ، آخر کب تک ، قانون کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے طاہرہ کو موت کی نیند سونا پڑے گا ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں