17

گرفتار ملزم شفقت کے پولی گراف ٹیسٹ کا فیصلہ ،ٹیسٹ ہوتا کیسے ہے ؟

(عمر یعقوب)سانحہ موٹروے کی تحقیقات کا دائرہ کاروسیع کرنےکافیصلہ کرلیاگیا۔ تفتیشی ٹیمیں گرفتارملزم شفقت علی کا پولی گرافک ٹیسٹ کروائیں گی۔ سچ اورجھوٹ جاننے والے ٹیسٹ کی مدد سے مزید حقائق سامنے لائےجائیں گے۔ آخریہ پولی گرافک ٹیسٹ ہوتاکیاہے اور کیسے کیا جاتا ہے اس بارے میں آپکو تفصیل سےبتائیں گے۔
کریمنیل کیسز کی تفتیش میں معاونت فراہم کرنے والےپولی گراف ٹیسٹ کو جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ سنگین نوعیت کی تفتیش کا لازمی حصہ سمجھاجاتا ہے۔لاہورمیں واقع پنجاب فرانزک سائنس مختلف سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ملزم سے ملنے والے جوابات کوریکارڈ کرلیا جاتا ہے۔ایجنسی میں ماہرڈاکٹروں کی ٹیم یہ ٹیسٹ کرتی ہے۔ اس سائنسی تجربے کے پہلے مرحلے میں ملزم سے

پھردوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے، جس میں وہی ڈاکٹرز ملزم کوایک الیکٹرک کرسی پربیٹھا کرانسانی حسوں کو پرکھنے والی مشین سے منسلک میڈیکل آلات جسم پرلگاتے ہیں۔ اورپھر ایک بار دوبارہ ملزم سے وہی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ لیکن اس بار انہیں ریکارڈ کرنے کےساتھ ساتھ ملزم کا سانس پھولنا، خون کی رفتار، دل کی ڈھڑکن اورجلد کے سکڑنے سمیت دیگراہم پہلوؤں کا جائزہ لیاجاتا ہے۔ اس دوران ملزم کو پسینہ اور کپکپی طاری ہونا جیسے اہم پہلوؤں کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ پھردونوں طریقوں سے پوچھے گئے سوالات کا آپس میں موازنہ کیاجاتا ہے اور ماہرڈاکٹروں پرمشتمل ایک بورڈ جامع رپورٹ مرتب کرتا ہے کہ ملزم نے کتنا سچ بول اور کتنا جھوٹ۔


اس ٹیسٹ سے قبل ملزم کی مناسب نیند کا پورا ہونا اور پیٹ بھرا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اسلئے تفتیشی ٹیمیں پولی گرافک ٹیسٹ سے ایک رات پہلے ملزم کوجلدی سلانے کا بندوبست کرتی ہیں اور اگلے روز اسے مناسب ناشتہ کروایا جاتا ہے۔ تھکاوٹ اور خالی پیٹ سے ٹیسٹ کے نتائج پرمنفی اثرات پڑتے ہیں۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں جمع شدہ اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو تفتیشی ٹیموں کوماضی میں اہم کیسزکی تفتیش میں پولی گرافک ٹیسٹ کے نتائج سے50فیصد مدد ملی ہے۔ سانحہ موٹروے کی تفتیش میں بھی گرفتارملزم شفقت کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانےکافیصلہ کیاگیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ حقائق سامنےلائے جاسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں