12

اسلام قبول کرنے والی 23 سالہ لڑکی نے اپنی افسوسناک کہانی سنادی، کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ سال اسلام قبول کرنے والی برطانوی لڑکی ہینا کیلنگ نے اردن جا کر پناہ گزین کیمپ میں رہنا شروع کر دیا۔ دی مرر کے مطابق 23سالہ ہینا کو اسلام قبول کرنے کے بعد سماج میں شدید طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑا اور اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے طنز کے خوف کی وجہ سے اسے اپنے اسلام قبول کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر مخفی رکھنا پڑا۔ لوگ اسلام فوبیا کا شکار ہیں، چنانچہ ان کی طرف سے مجھے پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لہٰذا میں نہیں چاہتی تھی کہ اب ایک بار پھر مجھے اس صورتحال سے گزرنا پڑے۔

رپورٹ کے مطابق اب ہینا نے اردن میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ میں جا کر رہائش رکھ لی ہے اور اس کا مقصد ان پناہ گزینوں کو درپیش آنے والی صعوبتوں کو اجاگر کرنا اور دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ہے۔ ہینا کا کہنا ہے کہ ”میرے مذہب کی وجہ سے میرے سماجی کام میں بھی رکاوٹ آ رہی ہے۔ اگر میں حجاب پہن کر سوشل میڈیا پر اپنی تصویر لگاﺅں اور اپنے سماجی کام کے حوالے سے پوسٹس کروں تو لوگ میرے سماجی کام کے متعلق کم بات کرتے ہیں اور میرے مذہب کو زیادہ نشانہ بناتے ہیں چنانچہ مجبوراً میں سوشل میڈیا پر اپنی حجاب والی تصویر نہیں لگاتی۔مسلمان ہونے کے بعد مجھے لوگوں کی طرف سے جس قبیح ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں